ڈیوڈ کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو یونیورسٹی میں بنے ایمرجنسی وارڈ میں پایا
وہ بیڈ سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ اسے اپنے دماغ میں آواز سنائی دی
ڈنگ……
کاسمک لگژری سسٹم منسلک کیا جا رہا ہے
10%
30%
50%
80%
100%
سسٹم کامیابی سے ایکٹو ہو گیا ہے
اس کے ساتھ ہی ڈیوڈ کے ساتھ ایک سکرین نمودار ہوئی جو صرف ڈیوڈ کو ہی دکھائی دے رہی تھی
مالک: ڈیوڈ لڈل
بیلنس: 1000000000000000000000 ڈالر
جسم: 15 پوائنٹس (کمزور)
ذہن: 28 پوائنٹس (نارمل)
مہارتیں: ( لگژری پوائنٹس کی مدد سے شامل کی جاسکتی ہیں )
لگژری پوائنٹس: 0
اس سے پہلے کہ ڈیوڈ کچھ سمجھ پاتا ایک بار پھر اسے اپنے دماغ میں آواز سنائی دی
[مالک ڈیوڈ لڈل! لگژری سسٹم میں خوش آمدید! سپر لگژری سسٹم صرف ایک ہی ہے اور اس کا ایک ہی مالک ہے.مالک کے مرنے کی صورت میں یہ سسٹم غائب ہوجائے گا]
[سسٹم بیلنس دنیا کے تمام بینکس کے ساتھ منسلک ہے جو کہیں بھی کبھی بھی فنگر پرنٹس, چہرے یا آنکھوں کی شناخت کی مدد سے استعمال یا منتقل کیا جا سکتا ہے]
[سسٹم کے استعمال کا طریقہ
لگژری پوائنٹس سسٹم بیلنس استعمال کرنے پر حاصل کیے جا سکتے ہیں.ہر 100 ملین کے استعمال پر ایک لگژری پوائنٹ ملے گا اور یہ پوائنٹس بہتر صحت,مہارت اور دیگر چیزوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں]
[استعمال کرنے کے اصول
صرف ایک ہی اصول ہے کچھ بھی خریدنا ہو بھاؤ تاؤ کرنا سختی سے منع ہے]
ڈیوڈ ابھی سسٹم کی اچانک آمد پر ششدر تھا کہ وارڈ کا دروازہ کھلا اور سفید کوٹ پہنے ایک خوبصورت خاتون داخلی ہوئی جس کی عمر لگ بھگ تیس سال ہوگی. یہ یونیورسٹی کی ڈاکٹر کرسٹن شیلٹن تھی
ڈاکٹر کرسٹن ایک شادی شدہ خاتون تھی جس کا شوہر ایک چھوٹی سی کمپنی کا مالک تھا مگر اس کے اپنے شوہر سے تعلقات خراب چل رہے تھے اور سننے میں آرہا تھا کہ جلد دونوں علیحدہ ہونے والے ہیں (خیر اس بات کا ہماری کہانی سے کیا تعلق بھلا)
تم اب ٹھیک ہو اور واپس جا سکتے ہو البتہ جسمانی طور پر کمزور ہو لہذا اپنی خوراک کا خاص خیال رکھو, اچھے خاصے نوجوان ہو ان چھوٹے چھوٹے معاملات میں پھنس کو خود کو ضائع مت کرو
ڈاکٹر کرسٹن نے شفقت بھرے انداز میں تنبیہہ کی
شکریہ ڈاکٹر شیلٹن میں سمجھ گیا: ڈیوڈ وارڈ سے نکل آیا اسے اب بھی ہلکے ہلکے چکر سے محسوس ہو رہے تھے
ڈیوڈ جب کیمپس سے گزرا تو بہت سے طلبہ اسی کے بارے میں سرگوشیاں کرتے نظر آئے. اس کے تعلق ٹوٹنے اور بیہوش ہونے کی خبر پورے کیمپس میں پھیل چکی تھی اور اسے پھیلانے میں بھی لیو کا خاص کردار تھا. لیکن ڈیوڈ کو اس وقت کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی ڈیوڈ کو اپنا گلا خشک ہوتا محسوس ہوا تو وہ یونیورسٹی کے سامنے لگی وینڈنگ مشین سے ایک بوتل پانی کی خریدنے کے لیے آگے بڑھا. جب وہ قیمت ادا کرنے کے لیے موبائل سے پیسے ٹرانسفر کرنے لگا تو اسے سسٹم یاد آیا اور اس نے اسے آزمانے کا سوچا اس نے فنگر پرنٹ کا آپشن چنا اور انگوٹھا سکینر پر لگا دیا
ڈنگ
[سپر لگژی سسٹم نے تین ڈالر ادا کردیے ہیں]
اس کے ساتھ ہی پانی کی بوتل مشین سے باہر آگئی
یہ واقعی کام کرتا ہے
ڈیوڈ بڑبڑایا
ڈیوڈ نے سسٹم پر دیکھا تو
مالک: ڈیوڈ لڈل
بیلنس:99999999999999999997 ڈالر
جسم: 15 پوائنٹس (کمزور)
ذہن: 28 پوائنٹس (نارمل)
مہارتیں: ( لگژری پوائنٹس کی مدد سے شامل کی جاسکتی ہیں )
لگژری پوائنٹس: 0
ہاہاہاہاہاہا
ڈیوڈ نے دیوانوں کی طرح قہقہہ لگایا سپر لگژری سسٹم ایک حقیقت تھی اور وہ اب دنیا کا امیر ترین شخص تھا کیونکہ اس کے پاس پوری دنیا کی دولت سے بھی زیادہ دولت تھی
اب سے میں ڈیوڈ لڈل اپنی زندگی بدلوں گا.پچھلے 20 سالوں سے جس کسمپرسی میں جی رہا تھا اور جنہوں نے میرے ساتھ غلط کیا اب ان سب کا بدلہ چکانے کا وقت آچکا ہے
ڈیوڈ نے اپنے حواس بحال کیے اور سیدھا کیمپس کے نزدیک موجود صوبے کے سب سے لگژری اور مہنگے ہوٹل ایٹ سٹار گولڈن لیف ہوٹل کی طرف بڑھا.اسے اس وقت شدید بھوک محسوس ہو رہی تھی