ڈیوڈ ہمارا تعلق بس یہیں تک تھا اب ہم مزید ساتھ نہیں چل سکتے”
دریا کے کنارے ملاقات کو آئے قدرے الگ تھلگ جگہ پر کھڑے ڈیوڈ لڈل سے اس کی گرل فرینڈ سارا جینسن نے کہا.
سارا! مگر کیوں؟ کیا غلط کیا میں نے؟ کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا اتنی بے حس کیسے بن سکتی ہو تم؟
ڈیوڈ نے جذباتی ہو کر پوچھا
دونوں ہائی سکول سے کلاس فیلو تھے اس کے بعد وہ تین سال سے اکٹھے تھے.اگرچہ ڈیوڈ کا تعلق کسی امیر گھرانے سے نہیں تھا مگر وہ ایک وجیہ اور لائق نوجوان تھا جسے اپنے گھر اور خاندانی سے لگاؤ تھا اور ایک ذمہ دار نوجوان تھا. ظاہر ہے ایک خوبصورت اور وجیہہ ہونے کی وجہ سے ہائی سکول میں کافی لڑکیاں پسند بھی کرتی تھیں.
سارا بھی کچھ کم نہیں تھی اس کا شمار کلاس کی خوبصورت ترین لڑکیوں میں ہوتا تھا اور پڑھنے میں اگرچہ ڈیوڈ کے برابر تو نہیں مگر لائق ضرور تھی.
دونوں کی دوستی پر کافی اساتذہ نے اعتراض کیا مگر دونوں نے بار بار اپنی پڑھائی پر کسی بھی قسم کا اثر نہ ہونے کا وعدہ کرکے انہیں ان کی دوستی کی طرف سے آنکھ بند کرنے پر قائل کرلیا اور انہوں نے وعدہ نبھایا بھی دونوں بہترین رزلٹ لینے کے بعد صوبے کی سب سے بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ساؤتھ رِور یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بہت سے لوگوں کے حسد اور رشک کی وجہ بنے.
البتہ ڈیویڈ کو اندازہ نہیں تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال ہی سارا اس سے فاصلہ اختیار کرنے لگے گی اور اب وہ اسے براہ راست مخاطب ہو کر تعلق ختم کرنے کی بات کر رہی تھی. حقیقتاً ڈیوڈ کو فرق پہلے سمسٹر میں ہی نظر آنے لگ گیا تھا جب اس نے سارا کے رویے میں تبدیلی محسوس کی وہ جب کبھی ساتھ ہوتے سارا کا ذہن کہیں اور ہوتا اور ڈیوڈ جب بھی ملنے کی بات کرتا تو وہ مختلف بہانے بنانے لگتی.
ایک بار تو ڈیوڈ نے سارا کو کلاس کے سب سے بڑے پلے بوائے کے ساتھ گاڑی میں دیکھا مگر اس نے خود کو جھوٹی تسلی دیتے ہوئے سمجھا لیا کہ وہ کلاس کی پارٹی میں جا رہے. ( یہ کمبخت عشق ہے ہی ایسی چیز محبوب کی فاش غلطیوں کی توجیہ بھی خود ہی پیدا کرکے خود کو سمجھاتا رہتا) مگر آج اس کا سارا تخیل ٹوٹ چکا تھا.
سارا مجھے سچ سچ بتاؤ کیا تم یہ لیو ٹیٹ کی وجہ سے کر رہی ہو؟
اگر ایسا ہے بھی تو کیا؟
سارا تمہیں پتا ہے نا وہ بگڑا ہوا امیر زادہ ہے اور پلے بوائے ہے کیا تم نہیں جانتی؟ پچھلے سمسٹر میں اس کی وجہ سے ایک لڑکی نے خودکشی بھی کی تھی کیا تم یہ سب نہیں جانتی؟
لیو ٹیٹ نے مجھے بتایا تھا اس میں اس کی غلطی نہیں تھی وہ لڑکی اس کی دولت کے پیچھے پڑی ہوئی تھی اور جب لیو نے اسے دھتکارا تو ڈپریشن میں آکر اس نے ایسی حرکت کی تھی.
سارا اس کی بات کا یقین مت کرو اس کے ایک وقت میں کئی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات ہیں.
ڈیوڈ میں یہاں تم سے بحث کرنے نہیں بلکہ بتانے آئی آئندہ میرے راستے میں آنے کی یا میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں گڈ بائے.
سارا یہ کہہ کر واپسی کے لیے مڑی مگر ڈیوڈ نے اسے روک لیا
سارا میری بات سنو لیو اچھا لڑکا نہیں ہے بیوقوف مت بنو. کہیں وہ تمہیں مجبور تو نہیں کر رہا ؟ اگر ایسا ہے تو مجھے بتاؤ میں دیکھ لوں گا اسے.
سارا نے اسے سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا
کوئی مجھے مجبور نہیں کر رہا یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے خود کو جھوٹی تسلیاں دینا بند کردو. میں مزید تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی نہ تمہارے ساتھ مجھے اپنا کوئی مستقبل نظر آرہا ہے نہ تمہارے پاس ڈھنگ کا گھر ہے نہ کاروبار اور میں تمہارے ساتھ زندگی بھر غربت کی چکی میں پستے ہوئے جینا نہیں چاہتی . میرے شوق مہنگے ہیں جو تمہاری پہنچ سے بہت دور ہیں. یہ بیگ دیکھ رہے ہو میرے ہاتھ میں ؟ اس کی قیمت دس ہزار ہے جو کل ہی مجھے لیو نے دیا کیا تم کر سکتے ہو ایسا؟
لیکن سارا وہ پہلے بھی بہت لڑکیوں کو دھوکہ دے چکا ہے وہ صرف تم سے کھیل رہا ہے تم سے شادی نہیں کرے گا.
ارے ارے مسٹر ڈیوڈ کسی کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرنا کوئی اچھی بات تو نہیں.
اسی وقت پیچھے اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی
دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لیو ٹیٹ آتا ہوا نظر آیا جس نے آتے ہی سارا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگا لیا اور سارا بھی لیو کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی
یہ سب دیکھ کر ڈیوڈ کو اپنا دل خون کے آنسو روتا ہوا محسوس ہوا . وہ جانتا تھا اب مزید بحث کی گنجائش نہیں رہی جب عورت ایک بار اپنا دل بدل لے تو اسے پلٹنا بہت مشکل ہوتا ہے وہ ان کے یہ چونچلے مزید نہیں دیکھ سکتا تھا اس لیے اس نے سارا سے یہ کہہ کر واپسی کی راہ لی
سارا ایک دن تم اپنے آج کے فیصلے پر پچھتاؤ گی.
رکو! لیو نے ڈیوڈ کو آواز دی پھر اس نے مڑ کر سارا سے کہا سارا تم چلو میں آتا ہوں
لیو’ چھوڑو میں پہلے ہی اس سے ناطہ توڑ چکی ہوں اب کیا بات کرنی
ارے پریشان نہ ہو بس چھوٹی سی بات کہنی فکر نہ کروں ہمارے تعلق پر کوئی فرق نہیں آئے گا تم چل کر گاڑی میں بیٹھو
پھر وہ ڈیوڈ کی طرف بڑھا
بکو جو بھی بکنا ہے.اور میں پہلے بتا دوں اگر تم میری ناکام محبت پر مجھے آہ وزاری کرتے دیکھنا چاہتے ہو تو تمہیں مایوسی ہوگی
گوکہ ڈیوڈ اندر سے پوری طرح ٹوٹ چکا تھا مگر پھر بھی وہ لیو کے سامنے اپنی دکھی شخصیت دکھانا نہیں چاہتا تھا اس کی انا نے یہ گوارہ نہ کیا
لیو آگے بڑھا اور اس کے کان میں بولا
ارے میں تو بس یہ کہنا تھا کہ تم دونوں تین سال اکٹھے رہے پھر بھی تم لوگوں میں جسمانی تعلق نہ بنا مجھے یہ امید نہیں تھی مگر شکریہ مجھے یہ تحفہ پسند آیا خیر تم کیا جانو ادرک کا سواد بائے بائے سارا انتظار کر رہی ہے میں نے پہلے ہی ایٹ سٹار ہوٹل میں سوئٹ بک کیا ہوا ہے پورے ہفتے کے لیے جو تم ساری زندگی کبھی سوچ بھی نہیں سکتے ہاہاہاہا
لیو قہقہہ لگاتا واپس مڑ گیا جبکہ ڈیوڈ کو یہ سب سن کر اپنا دماغ سن ہوتا ہوا محسوس ہوا اسے ایسے محسوس ہوا جیسے اردگرد ہر چیز گھوم رہی ہو اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا