خواہش (قسط نمبر 3)


جب کبھی ڈیوڈ اور سارا اس ہوٹل کے پاس سے گزرتے تھے تو سارا اس ہوٹل میں کھانا کھانے کے خواب دیکھا کرتی تھی.
سر میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں؟ جیسے ہی ڈیوڈ ہوٹل میں داخل ہوا ایک اٹنڈنٹ اس کی طرف بڑھی
میں یہاں کھانا کھانے آیا ہوں؟ ڈیوڈ نے جواب دیا
کیا میں جان سکتی ہوں سر کہ آپ اکیلے ہیں یا اور بھی کوئی آئے گا؟ اٹنڈنٹ نے شائستگی سے پوچھا
صرف میں.
میرے ساتھ آئیے سر” اٹنڈنٹ نے ڈیوڈ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا
اٹنڈنٹ ڈیوڈ کو فرنٹ ڈیسک پر لے گئی جہاں موجود ایک دراز قد خوبصورت رسپشنسٹ نے ڈیوڈ سے نرمی سے پوچھا
سر کیا آپ کے پاس ممبر شپ کارڈ ہے؟
نہیں میرے پاس نہیں ہے . ڈیوڈ نے جواب دیا
میں معذرت خواہ ہوں سر ہمارا ہوٹل بہت مہنگا ہے اور یہاں کا کھانا اور اس کا سامان باہر سے امپورٹ کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ہی روزانہ جو کھانا بچتا ہے اسے تلف کردیا جاتا ہے اور صرف تازہ کھانا ہی آنے والوں کو پیش کیا جاتا ہے اس لیے ہمارا یہاں ریٹس بہت مہنگے ہیں . اس لیے اگر آپ کے پاس ممبر شپ کارڈ نہیں ہے تو آپ کو ایک مخصوص رقم بطور ضمانت ڈپازٹ کرنا ہوگی
ممبر شپ کارڈ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟ ڈیوڈ نے پوچھا
سر اگر آپ 1 ملین جمع کرواتے ہیں تو آپ نارمل ممبر شپ کے حقدار ہوں گے 2 ملین پر پریمیم جبکہ 5 ملین جمع کروانے پر آپ کو وی آئی پی ممبر شپ ملے گی
ٹھیک ہے مجھے پھر ممبر شپ کارڈ دے دیں
سر کیا میں جان سکتی ہوں آپ کتنی رقم جمع کروانا چاہیں گے؟
میں سوچ رہا ہوں 100 ملین جمع کروادوں پہلے
مم میں کچھ سمجھی نیں سر ابھی آپ نے کتنا بولا؟ ریسپشنسٹ نے ہکلاتے ہوئے پوچھا
میں نے کہا 100 ملین
سر کیا آپ کو یقین ہے کہ 100 ملین
جی بالکل

سر تھوڑی دیر انتظار کیجیے میں اپنی مینیجر صاحبہ کو بلاتی ہوں

کچھ دیر بعد ہی ہوٹل کی مینیجر وہاں موجود تھی
سر کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ آپ 100 ملین جمع کروانا چاہ رہے ہیں؟ مینیجر نے پوچھا
جی ہاں. ڈیویڈ نے مختصراً جواب دیا
سر آپ کس بینک کے ذریعے پے کریں گے؟
کوئی بھی بینک چلے گا؟
اور آپ کارڈ پیمنٹ کرنا چاہیں گے؟
نہیں فنگر پرنٹ
ٹھیک ہے سر رقم چیک کرلیں سر اگر درست ہے تو سکینکر پر اپنا انگوٹھا رکھیے” مینیجر نے کمپیوٹر سکرین ڈیویڈ کی طرف کرتے ہوئے کہا
ڈیوڈ نے رقم دیکھی 100 ملین ہی تھی اس نے اوکے پر کلک کیا اور سکینر پر انگوٹھا رکھ دیا
تین سیکنڈ بعد ڈیسک پر رکھی مشین سے آواز آئی
جس کے مطابق پیمنٹ ہوچکی تھی اور 100 ملین جمع ہوچکے تھے
اردگرد موجود تمام رسپشنسٹ اٹنڈنٹ اور مینیجر سب نے تیز سانس لی
ایسا انہوں نے اپنی زندگی میں پہی بار دیکھا تھا
وہ سب ڈیوڈ کو ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے ابھی سالم نگل جائیں گی
(سچ کہتے ہیں دنیا دولت کی غلام ہے)

پرل وارنر تین سال سے گولڈن لیف ہوٹل میں لابی مینیجر تھی اور اب تک وہ ایک سے بڑھ کر ایک امیرزادہ دیکھ چکی تھی جن کی دولت اربوں میں تھی مگر ایسا شخص اس نے پہلی بار دیکھا تھا اگرچہ دنیا کے ارب پتی لوگوں میں بہت لوگ تھے جن کی دولت سینکڑوں ارب ڈالرز میں تھی مگر جب وہ اس حلقے سے متعارف ہوئی تو اسے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں بہت بڑے بڑے مگرمچھ موجود ہیں اور ارب پتیوں کی لسٹ میں موجود افراد تو اصل کا ایک فیصد بھی نہیں اور وہ سب بظاہر بڑے سادہ مزاج نظر آتے ہیں اس کے سامنے موجود نوجوان بھی شاید انہی میں سے ایک تھا
شروع میں وہ بھی ڈیوڈ کو شوق کا مارا نوجوان سمجھ رہی تھی جو اپنا مذاق بنوانے ہوٹل چلا آیا مگر پھر بھی اس نے پیشہ ورانہ انداز اپنایا اور دراصل انتظار کرنے لگی کہ کب پیمنٹ فیل ہو اور وہ فوراً سیکیورٹی کو بلا کر دھکے دے کر اسے باہر نکالے
مگر ہوا اس کے برعکس اور ایک لمحے کے لیے جیسے سناٹا چھا گیا ہو
پرل اچانک سے جیسے ہوش میں واپس آئی ڈیوڈ سے کہا
سر اپنا آئی ڈی کارڈ دکھائیے تاکہ آپ کا ممبر شپ کارڈ جاری کیا جاسکے
ڈیوڈ نے خاموشی سے کارڈ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا دراصل وہ پرل کی سوچ ایک نظر میں پڑھ چکا تھا مگر وہ اس حقارت اور ایسے رویے کا 20 سال سے عادی تھا تو اسے زیادہ فرق نہیں پڑا.
میں ساؤتھ رِور یونیورسٹی کا طالبعلم ہوں اور اب سے میں تین وقت کا کھانا یہاں کھاؤں گا . اپنے ہوٹل کا سب سے بہترین کھانا تینوں وقت میرے لیے روزانہ تیار کروائیں اگر میں نہ آؤں تو وہ پھینک دیا جائے اور اگلے کھانے کی تیاری کی جائے” ڈیوڈ نے کہا
سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ہوٹل کا سب سے بہترین کھانا تین وقت میں یقیناً لاکھوب روپے روزانہ کے حساب سے بننا تھا اور اس پر یہ کہ اگر نہ آسکے تو پھینک دیا جائے ایسی عیاشی انہوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی.
جی بہتر مسٹر ڈیوڈ آپ کی خواہش کے مطابق ہی ہوگا
اس کے بعد ڈیوڈ کو ہوٹل کے سب سے بہترین کمرے میں لایا گیا
مسٹر لڈل یہ ہمارے ہوٹل کا سب سے بہترین پرائویٹ روم ہے جلد آپ کے لیے کھانا آجائے گا یہ میرا کارڈ ہے اگر کوئی ضرورت ہو تو آپ مجھے کال کر سکتے ہیں” یہ کہہ کر پرل نے اپنا ذاتی کارڈ آگے بڑھایا.یہ ہوٹل کا نہیں بلکہ اس کا ذاتی کارڈ تھا
ڈیوڈ نے کارڈ پرل کے ہاتھ لے لیا اور بظاہر حادثاتی طور پر کارڈ پکڑاتے ہوئے پرل کا ہاتھ ڈیوڈ سے ٹکرایا
ڈیوڈ کو اپنے جسم میں لہر سی دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی
کیا ہی نرم ہاتھ ہے, یہ عورت ورغلانے میں ماہر ہے چڑیل
ڈیوڈ نے دل ہی دل میں سوچا
کچھ دیر بعد بہترین کھانوں کی قطار سی لگ گئی اور پوری میز مختلف قسم کے کھانوں سے بھر گئی. میز پر ہر قسم کا اعلی ترین کھانا موجود تھا اور اس سب کی قیمت کم سے کم ایک ملین ڈالر بننے والی تھی مگر ڈیوڈ کو پرواہ نہیں تھی
ڈیوڈ اس وقت اتنا غریب تھا کہ اس کے پاس صرف پیسے ہی تھے. اس نے ہر ڈش سے تھوڑا تھوڑا چکھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے