خواہش (قسط نمبر 4)

کھانا کھانے کے بعد جب ڈیوڈ ہوٹل سے نکلا تو مینیجر اور باقی عملہ دروازے تک رخصت کرنے آیا. خوبصورت لڑکیوں کی لائن دیکھ کر ڈیوڈ کو دنیا خوبصورت لگنے لگی.
سارا جینسن؟ یہ کون ہے میں چاہوں تو اپنا حرم بھی قائم کر سکتا ہوں ہونہہ” ڈیوڈ سوچنے لگا
اب کیا کروں؟ اوہ ہاں سب سے پہلے تو گھر خریدنا ہے
ڈیوڈ مزید یونیورسٹی ہاسٹل میں نہیں رکنا چاہتا تھا جہاں ایک ہی کمرے میں چار لڑکے رہتے تھےجن میں سے صرف دو ہی مستقل رہتے تھے باقی دو نے اپنی اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ باہر فلیٹ کرائے پر لیا ہوا تھا اس نے سنا تھا کہ دوسرا روم میٹ بھی اب اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ باہر شفٹ ہونے کی سوچ رہا تھا. یہ خیال آتے ہی اسے سارا کا خیال آیا اور دل میں ٹیس سی اٹھتی محسوس ہوئی
اسی وقت اس کے پرانے موبائل کی خوفناک سے گھنٹی بجی
ڈیوڈ نے دیکھا تو اس کا روم میٹ پیٹرک اسے کال کر رہا تھا
ڈیوڈ کہاں ہو تم؟ ہم تینوں نے سنا جو ہوا. ہم یہاں وارڈ میں آئے ہیں مگر ڈاکٹر شیلٹن کا کہنا ہے کہ تم کب کے چلے گئے ہو.دیکھو کوئی بیوقوفی مت کرنا ہم تمہارے ساتھ ہیں
پیٹرک کی پریشانی بھری آواز سنائی دی
ڈیوڈ کو یہ سن کر اچھا لگا ” پیٹ! کیا کہہ رہے ہو؟ میں اب اتنا بھی پاگل نہیں ہوں پریشان نہ ہو میں جلد واپس آجاؤں گا
پکا؟
ہاں ہاں پکا.
مجھے بتاؤ تم کہاں ہو میں آتا ہوں ابھی
ارے نہیں میں گھر آگیا ہوں دو تین دن گزار کر واپس آجاؤں گا تسلی رکھو
واقعی ؟
ہاں ہاں میرے باپ سچ کہہ رہا ہوں
گڈ پھر ٹھیک ہے گھر آرام کرو اور اپنی فیملی کا سوچو جو تم سے پیار کرتے ہیں سب اور ہم تینوں بھی
اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں بچہ نہیں ہوں چل اب رکھ فون.
ساؤتھ رِور انٹرنیشنل ہاؤسنگ سوسائٹی
صوبے کی سب سے مہنگی جگہ. جہاں گھر کی اوسطاً قیمت کروڑوں میں تھی. پوری سوسائٹی تین اطراف سے دریا سے گھر ہوئی تھی. اس لیے یہاں سے دریا کا نظارہ نہایت شاندار ہوتا تھا. اس سوسائٹی میں صرف چھ عمارتیں تھی
ہر عمارت 38 منزلہ. جن میں چھوٹے بڑے ہر طرح کے اپرٹمنٹس بنے ہوئے یہ سچ میں امیروں کی دنیا تھی . ہر طرف لگژری گاڑیاں پارک تھی ایسی کہ ملین سے کم قیمت والی گاڑی والا یہاں گاڑی کھڑی کرتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے
یہ سوسائیٹی تین سال سے گھر بیچ رہی تھی مگر ابھی بھی کافی گھر خالی تھے وجہ ان کا بے تحاشا مہنگا ہونا تھا.
جب ڈیوڈ لابی میں داخل ہوا تھا تو اسے خالی خالی سا محسوس ہوا اسے پانچ سے چھ سیلز گرلز اکٹھی بیٹھی گپیں لگاتی نظر آئی جب انہوں نے ڈیوڈ کو دیکھا تو ان میں سے کوئی بھی اس کی طرف نہ بڑھی.
جب اس سوسائٹی نے اپارٹمنٹس بیچنا شروع کیے تھے تب امیروں کی لائن لگی ہوتی تھی اور بہت لوگوں نے خریدے بھی کئی سیلز گرلز صرف کمیشن کی مد میں لاکھوں کما کر جا چکی تھی مگر جن لوگوں نے خریدنا تھا وہ پچھلے دو سالوں میں خرید چکے تھے اب اکا دکا ہی کوئی آتا تھا. جو عملہ اب رکا ہوا تھا وہ صرف فکس تنخواہ کی وجہ سے رکا ہوا تھا.
جب سیلز گرلز نے ڈیوڈ کے عام سے کپڑے دیکھے تو انہوں نے جیسے اسے ان دیکھا کردیا ڈیوڈ کو اب اپنا آپ عجیب لگ رہا تھا وہاں موجود عملہ صاف نظر انداز کررہا تھا اور فرنٹ ڈیسک پر کوئی موجود نہیں تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس سے پوچھے . دو سے تین منٹ بعد 25 سے 26 سالہ نوجوان لڑکی واش روم والی سائیڈ سے آتی دکھائی دی اس نے ڈیوڈ کو کھڑے دیکھا تو اس کی طرف بڑھی
جینی وارڈ کو ابھی یہاں ایک ماہ ہوا تھا کام کرتے ہوئے اور اسے یہ نوکری اس بنا پر ملی کہ اس کے انکل نے باس کو ہزاروں مالیت کے تحائف دیے تھے. جینی کا تعلق دیہاتی علاقے سے تھا. اس کا خیال تھا کہ ایسی ماڈرن جگہ آکر شاید اس کا مستقبل بن جائے مگر پچھلے ایک ماہ میں اسے ایک بھی کسٹمر نہیں ملا تھا. جب بھی کوئی کسٹمر آتا پرانا عملہ فوراً جھپٹ پڑتا اور اسے بالکل بھی موقع نہ دیتے.
آج جب اسے ایک سادہ لباس میں ملبوس نوجوان نظر آیا اور جب اس نے دیکھا کہ سب اسے نظر انداز کر رہے تو وہ آگے بڑھی
سر کیا آپ یہاں گھر دیکھنے آئے ہیں؟ جینی نے پوچھا
جی” ڈیوڈ نے جواب دیا
جینی فوراً پرجوش ہوگئی آخر کار ایک ماہ کے بعد اسے کوئی ایک کسٹمر ملا تھا
سر آپ کس طرح کا گھر خریدنا چاہتے ہیں؟
آپ کے پاس کس کس قسم کے گھر دستیاب ہیں ؟
پھر جینی نے گھروں کے بارے میں معلومات دینا شروع کردی
آخرکار ڈیوڈ نے ایک بیس مرلہ مکان 22 ویں منزل بلاک 3 میں چنا
جینی نے فرنٹ ڈیسک سے چابیاں لی اور ڈیوڈ کو گھر دکھانے لے گئی
جب وہ دونوں وہاں سے نکلے تو باقی لڑکیاں آپس میں باتیں کرنے لگی
کیا یہ واقعی گھر خریدنے آیا ہے؟
اتنے سستے کپڑے پہنے ہوئے ایسا بندہ ساری عمر کام کرے تب بھی اتنے پیسے نہ کما سکے کہ یہاں سب سے سستا گھر بھی خرید سکے.
جینی جیسی ناتجربہ کار ہی ایسے بندے پر اپنا وقت ضائع کر سکتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے